اٹلی، یورپ کا نیا سخت ڈیپوٹیشن نظام | Italy - Europe New Stricter Deportation Policy 2026

اٹلی، یورپ کا نیا سخت ڈیپوٹیشن نظام | Italy - Europe New Stricter Deportation Policy 2026
یورپی یونین کا نیا اور سخت ریٹرن نظام: غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے اہم انتباہ۔ 


 تفصیلات کے مطابق یورپی یونین نے غیر قانونی طور پر مقیم تیسرے ممالک کے شہریوں کی واپسی کے لیے ایک مشترکہ اور سخت نظام پر عبوری اتفاق کر لیا ہے۔ اس قانون کا مقصد ڈیپورٹیشن کے طریقۂ کار کو تیز کرنا، یورپی ممالک کے درمیان تعاون بڑھانا اور ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہو کر کارروائی سے بچنے کے امکانات محدود کرنا ہے۔


 نئے نظام کے تحت “یورپین ریٹرن آرڈر” متعارف کرایا جائے گا، جس کی معلومات شینگن انفارمیشن سسٹم میں درج ہوں گی۔ اگر کسی شخص کو ایک رکن ملک قانونی طور پر یورپی یونین چھوڑنے کا حکم دیتا ہے تو دوسرا ملک بھی اس فیصلے کو تسلیم کرکے اس پر کارروائی کر سکے گا۔ تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ فی الحال دوسرے ملک کے فیصلے کو تسلیم کرنا لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہوگا؛ مستقبل میں اسے لازمی بنانے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔ 


 نئے ضابطے کے تحت یورپی ممالک انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنے والے غیر یورپی ممالک کے ساتھ معاہدے کرکے “ریٹرن ہبز” قائم کر سکیں گے۔ ڈیپورٹیشن کا حتمی فیصلہ رکھنے والے افراد کو ان مراکز میں منتقل کیا جا سکے گا، جہاں سے انہیں ان کے آبائی ملک یا کسی دوسرے متفقہ ملک بھیجا جا سکتا ہے۔ اکیلے اور غیر سرپرست نابالغ بچے اس نظام سے خارج ہوں گے۔ جن افراد کو یورپ میں قانونی طور پر رہنے کا حق حاصل نہیں ہوگا، ان کے لیے امیگریشن حکام سے تعاون، درست شناخت فراہم کرنا اور سفری دستاویزات کی تیاری میں مدد کرنا ضروری ہوگا۔ تعاون نہ کرنے، شناخت چھپانے یا مفرور ہونے کی کوشش پر مالی مراعات کم کی جا سکتی ہیں، رضاکارانہ واپسی کی سہولت روکی جا سکتی ہے اور ملکی قانون کے مطابق مزید پابندیاں یا حراست بھی عائد ہو سکتی ہے۔ سکیورٹی رسک قرار دیے جانے والے افراد کے خلاف خصوصی سخت اقدامات کیے جا سکیں گے۔ عام حالات میں داخلے پر پابندی کی زیادہ سے زیادہ مدت 10 سال تک ہوسکتی ہے، جبکہ سنگین سکیورٹی معاملات میں اس سے زیادہ یا غیر معینہ مدت کی پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب مقررہ مدت کے اندر رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے افراد کو سفر، مالی معاونت، پیشہ ورانہ تربیت اور آبائی ملک میں دوبارہ آباد ہونے کے لیے مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔


 اہم وضاحت: کسی ملک میں صرف پناہ یا رہائشی درخواست مسترد ہونے سے خودکار طور پر پورے یورپ سے بے دخلی نہیں ہوگی۔ پہلے قانونی طریقۂ کار، اپیل کے حق اور قیام کے حتمی فیصلے کو مکمل کیا جائے گا۔ جون 2026 میں یورپی پارلیمنٹ اور یورپی کونسل کے مذاکرات کاروں نے اس قانون پر عبوری اتفاق کیا تھا؛ رسمی منظوری اور سرکاری جریدے میں اشاعت کے بعد ہی اس کا اطلاق طے شدہ مراحل کے مطابق ہوگا۔ یورپ میں مقیم پاکستانی اپنے ویزا، رہائشی اجازت نامے اور پناہ کی درخواست کی قانونی حیثیت بروقت چیک کریں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے