یورپ میں سیاسی پناہ (Asylum) کے قوانین مزید سخت کر دیے گئے ہیں، اور “محفوظ ممالک” کی نئی فہرست جاری کر دی گئی ہے، جس کے بعد بنگلہ دیش، انڈیا اور تیونس کے شہریوں کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ نے "Safe Countries of Origin" کی تازہ فہرست کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد اسائلم کے نظام کو تیز اور سخت بنانا اور مسترد درخواست دہندگان کی واپسی کے عمل کو مؤثر بنانا ہے۔
نئی تبدیلیوں کی اہم تفصیلات
1. کن ممالک کو “محفوظ” قرار دیا گیا؟
یورپی یونین کی منظور کردہ فہرست میں بنگلہ دیش، انڈیا، مصر، مراکش، تیونس، کوسوو اور کولمبیا شامل ہیں۔
نوٹ: اس یورپی فہرست میں پاکستان شامل نہیں، تاہم بعض رکن ممالک اپنی قومی سطح پر الگ فہرست رکھتے ہیں۔
2. درخواستوں کا فاسٹ ٹریک نظام
ان ممالک سے آنے والے افراد کی اسائلم درخواستیں اب تیز رفتار (Accelerated Procedure) کے تحت نمٹائی جائیں گی۔
بارڈر پر فیصلہ: زیادہ تر کیسز کا فیصلہ تقریباً تین ماہ کے اندر سرحدی مراکز پر کیا جا سکے گا۔
ثبوت کی ذمہ داری: درخواست گزار کو خود یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ حقیقی خطرے سے دوچار ہے، بصورت دیگر فوری واپسی ممکن ہے۔
3. ٹرانزٹ (عبوری) اصول
اگر کوئی شخص کسی ایسے ملک سے گزر کر آیا ہو جسے محفوظ سمجھا جاتا ہے (مثلاً تیونس یا مصر)، تو بعض صورتوں میں اس کی درخواست مکمل سماعت کے بغیر اسی ملک واپس بھیجی جا سکتی ہے۔
4. اپیل کے دوران واپسی
نئے ضوابط کے تحت اپیل دائر کرنے کے باوجود بعض کیسز میں ملک بدری (Deportation) روکی نہیں جائے گی، جو کہ پہلے کے نظام سے مختلف ہے۔
خلاصہ
یورپ اب اسائلم پالیسی میں سختی اور تیزی لا رہا ہے، تاکہ غیر مستحق درخواستوں کو جلد نمٹایا جا سکے اور واپسی کا عمل مؤثر بنایا جا سکے۔ اس تبدیلی کے بعد محفوظ قرار دیے گئے ممالک کے شہریوں کے لیے سیاسی پناہ حاصل کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

0 تبصرے